فیکٹ چیک: مسجد اقصی پر حال ہی میں ہوئی اسرائیلی کاروائی کی نہیں ہے یہ تصویر، پرانی فوٹو گمراہ کن حوالے سے وائرل

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کی جا رہی تصویر ایک سال پرانی ہے۔ اس پرانی تصویر کو حالیہ حالات کی بتاتے ہوئے وائرل کیا جا رہا ہے۔

فیکٹ چیک: مسجد اقصی پر حال ہی میں ہوئی اسرائیلی کاروائی کی نہیں ہے یہ تصویر، پرانی فوٹو گمراہ کن حوالے سے وائرل

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک مسجد کے اندر بہت سے لوگوں کو بندھے ہاتھوں کے ساتھ زمین پر پڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ صارفین اس تصویر کو حال ہی میں رمضان کے دوران مسجد اقصی میں ہوئی اسرائیلی کاروائی کی بتاتے ہوئے شیئر کر رہے ہیں۔ وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کی جا رہی تصویر ایک سال پرانی ہے۔ اس پرانی تصویر کو حالیہ حالات کی بتاتے ہوئے وائرل کیا جا رہا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’درد ناک منظر، ہمیشہ کی طرح اس رمضان میں بھی اسرائیل نے مسجد اقصی کے آس پاس مسلمانوں پر ظلم شروع کر دیا ہے، اور مسجد میں آنے والے نمازیوں کے ساتھ برا سلوک کر رہے ہیں۔۔ اے میرے مالک اس رمضان کے صدقے فلسطینیوں کی مدد فرما اور اسرائیل کو تباہ و برباد فرما نیست و نابود فرما آمین””-

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے تصویر کو گوگل لینس کے ذریعہ سرچ کیا۔ سرچ میں ہمیں یہ تصویر 22 اپریل 2022 کو عبده کے ٹویٹر ہینڈل پر ملی۔ تصویر کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق یہ رمضان کے دوران مسجد اقصی کی فوٹو ہے۔

اسی بنیاد پر مزید سرچ کئے جانے پر ہمیں اسی تصویر سے ملتے جلتے منظر کا ایک ویڈیو بھی ملا، اس ویڈیو کو فلسطین کے میڈیا ادارےکی جانب سے 15 اپریل 2022 کو ٹویٹ کیا گیا ہے۔ یہاں بھی دی گئی معلومات کےمطابق یہ ویڈیو القبلی مسجد کا ہے۔

یہی تصویر ہمیں ’اربیجدیرن‘ نام کی ایک نیوز ویب سائٹ پر بھی ملی۔ یہاں دئے گئے آرٹیکل میں مسجد اقصی سے متعلق معلومات دی گئی ہے اور 29 اپریل 2022 کو شائع ہوئے آرٹیکل میں تصویر کے ساتھ دی گئی تفصیل کے مطابق، ’’22 اپریل کو متعدد فلسطینیوں کو پیچھے باندھ کر مسجد اقصیٰ کے فرش پر لٹا دیا گیا‘‘۔ مکمل آرٹیکل یہاں پڑھیں۔

بی بی سی کی 5 اپرل 2023 کی خبر کے مطابق، ’ بیت المقدس میں واقع مسجدِ اقصٰی پر اسرائیلی پولیس کے چھاپے کے دوران کم از کم 14 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس نے نمازِ فجر سے قبل اس وقت مسجد پر چھاپہ مارا جب آتشیں مواد، لاٹھیوں اور پتھروں سے مسلح ’مظاہرین‘ نے خود کو مسجدِ اقصی کے اندر بند کر لیا۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے مسجد میں موجود افراد پر سٹن گرینیڈ اور ربڑ کی گولیاں چلائیں جس سے 14 افراد زخمی ہوئے ہیں‘۔

وائرل تصویر سے متعلق تصدیق کے لئے ہم نے فسلطین کی صحافی اور انسانی حقوق کی کارکن ماہا حسینی سے رابطہ کیا اور وائرل کی جا رہی پوسٹ ان کے ساتھ شیئر کیا۔ انہوں نے ہمیں معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ یہ تصویر حالیہ نہیں بلکہ سال 2022 کی ہے۔

گمراہ کن پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ صارف کا تعلق پاکستان سے ہے۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کی جا رہی تصویر ایک سال پرانی ہے۔ اس پرانی تصویر کو حالیہ حالات کی بتاتے ہوئے وائرل کیا جا رہا ہے۔

Misleading
Symbols that define nature of fake news
مکمل سچ جانیں...

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں contact@vishvasnews.com
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں

Related Posts
Recent Posts