وشواس نیوز نے اس تصویر کی پڑتال کی تو ہم نے پایا کہ یہ اصل نہیں بلکہ فنکار پیٹریشیا پسینی کے ذریعہ بنائی گئی ایک تخلیق ہے۔ اب اسی تصویر کو اصل سمجھتے ہوئے صارفین فرضی دعوی کے ساتھ وائرل کر رہے ہیں۔
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے جس کو شیئر تے ہوئے صارفین یہ دعوی کر رہے ہیں کہ یہ اصل مخلوق ہے۔ جب وشواس نیوز نے اس تصویر کی پڑتال کی تو ہم نے پایا کہ یہ اصل نہیں بلکہ فنکار پیٹریشیا پسینی کے ذریعہ بنائی گئی ایک تخلیق ہے۔ اب اسی تصویر کو اصل سمجھتے ہوئے صارفین فرضی دعوی کے ساتھ وائرل کر رہے ہیں۔
فیس بک صارف پر متعدد صارفین اس تصویر کو اصل مخلوق کی فوٹو سمجھتے ہوئے شیئر کر رہے ہیں۔
پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔
اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے اس تصویر کو گوگل رورس امیج کے ذریعہ سرچ کیا۔ سرچ میں ہمیں یہ تصویر آرٹ سائے نام کی ایک ویب سائٹ پر ملی۔ یہاں پر آرٹیکل سے متلعق دی گئی معلومات کے مطابق اس آرٹ کی تخلیق آسٹریلیا کی آرٹسٹ پیٹریشیا پسینی نے کی ہے۔ پیسنی ایک متاثر کن فنکار ہے جو اپنے کام تیار کرنے کے لیے فیبریکیٹرس کے ساتھ کام کرتی ہے۔ آرٹیکل کو یہاں پڑھا جا سکتاہے۔
پیٹریشیا کے انسٹاگرام ہینڈل پر بھی ہمیں وائرل تصویر سے متعلق ویڈیو ملا۔ جس میں پیٹریشیا کی اسی تخلیق کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ تصویر کے ساتھ دکئے گئے کیپشن کے مطابق، ’ دا ینگ فیملی 2003‘۔ ’سلیکون، فائبر گلاس، انسانی بال، چمڑا‘ میں نے اکثر سوچا ہے کہ میں یہاں اپنے کام کے بارے میں کچھ اور وضاحت شامل کرنا چاہوں گی، لیکن میں انسٹاگرام کی کوئی بڑی ٹیکسٹ رائٹر نہیں ہوں۔ تاہم، میں ہر کسی کی طرح گھر پر رہی ہوں، اور میں ان چیزوں کو دیکھ رہی ہوں جو لوگ تیار کر رہے ہیں، اور میں نے سوچا کہ شاید مجھے کچھ چھوٹی ویڈیوز لگانے کا موقع ملے گا جہاں میں کام کے بارے میں بات کر سکوں۔ میں نے دی ینگ فیملی سے شروعات کی ہے اور اگر یہ کام کرتا ہے تو میں آنے والے ہفتوں میںکچھ اور پیش کرنے کی کوشش کروں گی‘۔ نیچے پوسٹ دیکھی جا سکتی ہے۔
پیٹریشیا پسینی سے ہم نے ای میل کے ذریعہ رابطہ کیا اور وائرل پوسٹ ان کے ساتھ شیئر کی۔ انہوں نے تصدیق دیتے ہوئے ہمیں بتایا کہ یہ تصویر ’دا ینگ فیملی 2003 کی ان کی تخلیق کی ہے۔
فرضی پوسٹ کو شیر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ صارف کو 8,759 لوگ فالوو کرتے ہیں۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اس تصویر کی پڑتال کی تو ہم نے پایا کہ یہ اصل نہیں بلکہ فنکار پیٹریشیا پسینی کے ذریعہ بنائی گئی ایک تخلیق ہے۔ اب اسی تصویر کو اصل سمجھتے ہوئے صارفین فرضی دعوی کے ساتھ وائرل کر رہے ہیں۔
اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں contact@vishvasnews.com
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں