کرناٹک کے بنگلورو میں تشدد کے نام پر وائرل ہو رہے تصاویر دہلی میں ہوئے تشدد سے منسلک ہیں۔
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ بنگلورو میں ہوئے تشدد کے بعد سوشل میڈیا پر کئی ایسی تصاویر ویڈیو وائرل ہو رہے ہیں، جس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایسی ہی دو تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جس میں آگزنی اور تشدد کرتی بھیڑ کو دیکھا جا سکتا ہے۔
وشواس نیوز کی پڑتال میں یہ دعوی گمراہ ثابت کرنے والا نکلا۔ جن تصاویر کو بنگلورو میں ہوئے تشدد سے جوڑ کر وائرل کیا جا رہا ہے، وہ دونوں ہی تصاویر دہلی میں فسادات سے منسلک ہیں۔
فیس بک پیج، ’کشمیر نیوز ایجنسی‘ نے وائرل تصاویر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے
‘‘Voilent Clashes erupted in Bangaluru Over Post Of BJp MLA’s Son insulting Prophet Muhammad (Saw) 60 Cops Injured 2 Civillians MarTyred Section 144 Imposed.”
دینک جاگرن میں شائع ہوئی نیوز رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پوسٹ کو لے کر بنگلورو میں تشدد ہوا اور اب تک 145 لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹ کو لے کر اچانک تشدد ہوا جس میں 60 پولیس اہلکار بھی زخمی ہو گئے ہیں۔
وائرل تصاویر کے ساتھ یہ دعوی کیا گیا ہے کہ بی جے پی کے ایم ایل اے کے بیٹے نے بھڑکاؤ پوسٹ کیا، جس کے سبب تشدد ہوا۔ ’آج تک‘ کی ویب سائٹ پر لگی نیوز رپورٹ کے مطابق’ہنگامہ کا آغاز ایک فیس بک پوسٹ سے ہوا۔ الزام ہے کہ کانگریس ایم ایل اے سرینیواس مورتی کے بھتیجے نے فیس بک پر ایک بھڑکاؤ پوسٹ کیا تھا۔ اس پوسٹ کے بعد منگل کے روز 9:30 بجے بھیڑ نے ایم ایل اے سرینیواس مورتی کے گھر اور مشرقی بنگلورو کے ڈی جے ہلی پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا‘‘۔
حالاںکہ وائرل پوسٹ میں دو تصاویر کو بنگلورو تشدد سے جوڑ کر شیئر کیا جا رہا ہے، اسلئے ہم نے ان دونوں تصاویر کی باری باری پڑتال کی۔
گوگل رورس امیج کئے جانے پر ہمیں یہ تصویر کئی نیوز ویب سائٹ پر لگی ملی۔ 26 فروری 2020 کو نیوز 18 ڈاٹ کام کی ویب سائٹ پر شائع فوٹو گیلری میں بھی ہمیں یہ تصویر ملی۔
دی گئی معلومات کے مطابق، یہ تصویر دہلی کے جافرہ آباد میں ہوئے تشدد کی ہے۔ شمال مشرقی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف مظاہرے پُرتشدد ہوگئے ، جس میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
گوگل رورس امیج سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ تصویر ممبئی مرر ڈاٹ کام کی ویب سائٹ پر شائع رپورٹ میں ملی۔ ایک مارچ 2020 کو شائع ہوئی خبر کے مطابق، یہ تصویر بھی دہلی فسادات سے منسلک ہے۔
رپورٹ میں دی گئی معلومات کے مطابق، یہ تصویر دہلی کے موج پورعلاقہ کا ہے۔ مشرقی دہلی کو کوور کرنے والے ہمارے ساتھ دینک جاگرن کے سینئر رپورٹر شجاالدین نے ان تصاویر کے دہلی سے جڑے ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا، ’’یہ دونوں تصاویر اسی سال فروری ماہ میں ہوئے دہلی تشدد کی ہیں‘‘۔
مذکورہ پوسٹ کو گمراہ کن دعوی کے ساتھ شیئر کرنے والے فیس بک پیج کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ سا پیج پر کشمیر سے منسلک پوسٹ شئر کی جاتی ہیں۔ علاوہ ازں 1073 صارفین اس پیج کو فالوو کرتے ہیں۔
نتیجہ: کرناٹک کے بنگلورو میں تشدد کے نام پر وائرل ہو رہے تصاویر دہلی میں ہوئے تشدد سے منسلک ہیں۔
اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں contact@vishvasnews.com
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں