فیکٹ چیک: سعودی عرب میں ہوئے حملہ کا نہیں ہے یہ ویڈیو، پرانا ویڈیو گمراہ کن دعوی کے ساتھ وائرل

وائرل ویڈیو کی پڑتال میں ہم نے پایا کہ یہ 2020 میں سعودی کے حرمین ٹرین اسٹیشن پر لگی آگ کا ویڈیو ہے۔ اور اب اسی کو گمراہ کن دعوی کے ساتھ وائرل کیا جا رہا ہے۔

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس میں ایک عمارت میں آگ لگے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین یہ دعوی کر رہے ہیں کہ یہ ویڈیو حال میں یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی کی ارامکو رفائنری میں کئے گئے حملہ کا ویڈیو ہے۔ جب ہم نے اس ویڈیو کی پڑتال کی تو پایا کہ یہ 2020 میں سعودی کے حرمین ٹرین اسٹیشن پر لگی آگ کا ویڈیو ہے۔ اور اب اسی کو گمراہ کن دعوی کے ساتھ وائرل کیا جا رہا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف نے وائرل ویڈیو کو اپ لوڈ کرتے ہوئے لکھا، ’یمنی ٹی وی: سعودی معیشت کا اعصابی مرکز آرامکو یمنی فضائیہ کے 15 چھاپوں کے بعد اب سروس سے باہر ہے‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال کو شرع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے ویڈیو کو ان ویڈ ٹول میں اپ لوڈ کیا اور متعدد کی فریمس نکال کر انہیں گوگل رورس امیج کے ذریعہ سرچ کیا۔ سرچ میں ہمیں یہی وائرل ویڈیو ایک فیس بک پروفائل پر 7 اگست 2020 کو اپ لوڈ ہوا ملا۔ یہاں ویڈیو کو ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق، ’جدہ کے الحرمین ٹرین اسٹیشن میں آگ بھڑک اٹھی، شہری دفاع کی ٹیمیں آگ بجھانے میں مصروف ہیں‘۔

اسی بنیاد پر ہم نے اپنی پڑتال کو آگے بڑھایا اور ہمیں یہ ویڈیو عریبیہ ویدر کے آفیشیئل یوٹیوب چینل پر ملا۔ یہاں ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق، ’جدہ کے حرمین ٹرین اسٹیشن میں لگی آگ کا یہ ویڈیو ہے‘۔

مزید سرچ کئے جانے پر ہمیں اس معاملہ سے متعلق العربیہ کی ویب سائٹ پر 7 اگست 2020 کو شائع ہوئی خبر بھی ملی۔ خبر میں دی گئی معلومات کے مطابق، ’جمعرات کو مکہ کے سول ڈیفنس نے بتایا کہ جدہ کے حرمین ہائی اسپیڈ ریل اسٹیشن کے قریب جدہ کے السلیمانیہ میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے‘۔ مکمل خبر یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔

الجزیرہ کی 26 مارچ 2022 کی خبر کے مطابق، ’حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے ارامکو رفائرنی پر حملہ کیا‘۔ مکمل خبر کو یہاں پڑھیں۔

ہم نے پوسٹ سے متعلق تصدیق حاصل کرنے کے لئے مشرق وسط کے ماہر صحافی سوربھ شاہی سے رابطہ کیا اور انہوں نے ہمیں تصدیق دیتے ہوئے بتایا کہ کچھ روق قبل سعودی عرب کی ارامکو فسیلٹی پر حملہ کیا تھا۔

گمراہ کن پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک پیج کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ پیج تاقرفت نيوز کو 22,723 لوگ فالوو کرتے ہیں۔

نتیجہ: وائرل ویڈیو کی پڑتال میں ہم نے پایا کہ یہ 2020 میں سعودی کے حرمین ٹرین اسٹیشن پر لگی آگ کا ویڈیو ہے۔ اور اب اسی کو گمراہ کن دعوی کے ساتھ وائرل کیا جا رہا ہے۔

Misleading
Symbols that define nature of fake news
مکمل سچ جانیں...

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں contact@vishvasnews.com
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں

Related Posts
Recent Posts